Welcome


صفه اول

کراچی میں شیعہ نسل کشی اور شہادتوں کا سلسلہ جاری

رپورٹ کے مطابق کالعدم دہشت گرد ٹولے کے یزیدی دہشت گردوں نے شیعہ لیب اسسٹنٹ نصیر الحسن جعفری کو ہفتے کی صبح ناظم آباد نمبر 7 میں اس وقت فائرنگ  کر کے شہید کر دیا جب وہ سیفی اسپتال سے اپنی ڈیوٹی مکمل کر کے چنیوٹ اسپتال میں اپنے فرائض کی ادائیگی کے لئے جا رہے تھے۔ نصیر الحسن جعفری اپنی گاڑی میں سوار تھے کہ اچانک کالعدم دہشت گرد ٹولے سپاہ صحابہ کے ناصبی دہشتگردوں نے ان پر حملہ کر دیا اور ان کی گاڑی پر چنیوٹ اسپتال کے سامنے ہی فائرنگ کر دی ،شہید نصیر جعفری کے سر میں ایک گولی لگی جس کی وجہ سے وہ موقع پر ہی درجہ شہادت پر فائز ہو گئے جبکہ بعد ازاں ان کے جسد خاکی کو عباسی شہید اسپتال لے جایا گیا۔
10 جون کی شب بھی فیڈرل بی ایریا بلاک نمبر 17میں موجود کالعدم دہشت گرد ٹولے سپاہ صحابہ کے ناصبی دہشت گردوں نے شیعہ آبادی سادات کالونی نمبر 20 انچولی میں حملہ کر دیا جس کے نتیجے  میں بیس سالہ شیعہ نوجوان علی رضا نقوی شہیدہو گئے۔
کالعدم دہشت گرد ناصبی ٹولے کے بھاری اسلحہ اور گولہ بارود سے لیس دہشت گردوں کی ریلی انچولی سوسائٹی سے گذری تو شیعہ رہائشی علاقے پر ناصبیوں نے امیرالمومنین حضرت علی ابن ابی طالب (علیہماالسلام) کی شان میں نازیبا الفاط ادا کرتے ہوئے شیعیان حیدر کرار کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور معاویہ اور یزید (لعین) کے حق میں نعرے لگائے۔
کالعدم دہشت گرد ٹولے کے دہشت گرد ۔ جو کہ انچولی کے عقبی علاقے فیڈرل بی ایریا بلاک نمبر17میں موجود تھے ۔ شیعہ آبادی والے علاقے انچولی سوسائٹی فیڈرل بی ایریا بلاک 20میں اس وقت معصوم اور نہتے لوگوں پر براہ راست فائرنگ کر دی جب کچھ معززین مذاکرات کی غرض سے ان کی طرف جا رہے تھے۔
فائرنگ کے نتیجے میں چار معصوم اور نہتے لوگ شدید زخمی ہو گئے جن میں ایک بیس سالہ نوجوان علی رضا بھی شامل تھے جو بعد میں زخموں کی تاب نہ لاکر جام شہادت نوش کرگئے۔
دوسری جانب کالعدم دہشت گرد ٹولے کے ناصبی درندوں نے فیڈرل بی ایریا بلاک ۔17میں بھی رہائش پذیر شیعہ آبادی پرحملہ کیا اور درجنوں گھروں کے دروازے توڑ کر لوگوں کو ہراساں کیا۔
اس سانحے کو کئی گھنٹے گذر جانے کے بعد پولیس اور رینجرز انتظامیہ بھی جائے وقوعہ پرپہنچی تو ناصبی دہشت گردوں کی جانب سے فائرنگ کا سلسلہ جاری تھا۔
رپورٹ کے مطابق پولیس نے 4اہم دہشتگردوں کو جائے وقوعہ سے گرفتار کر لیا تھا۔
شہید سید علی رضا کی نماز جنازہ جمعہ کے روز بعد نماز جمعہ مسجد خیر العمل انچولی سوسائٹی میں ادا کی گئی۔
شیعہ راہنماؤں کا رد عمل:
شیعہ راہنماؤں نے کہا ہے کہ پنجابی طالبان ملت جعفریہ کی نسل کشی میں ملوث ہیں،حکومت کاروائی کرے۔ سندھ بھر میں احتجاجی مظاہرے ہوئے۔
جعفریہ الائنس پاکستان کے سربراہ علامہ عباس کمیلی اور شیعہ علماء کونسل کے مرکزی رہنماء مولانا نظر عباس نے حکومت کو متنبہ کیا کہ ملت جعفریہ کی مسلسل ٹارگٹ کلنگ کے خلاف ایکشن نہ لیا گیا  تو ملت جعفریہ وزیر اعلیٰ ہاؤس اور گورنر ہاؤس کا گھیراؤ کرے گی۔
شیعت نیوز کے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق کراچی میں شیعہ نوجوانوں کی مسلسل ٹارگٹ کلنگ اور گذشتہ دو روز میں کالعدم دہشت گرد ٹولے سپاہ صحابہ کے ناصبی دہشت گردوں کی جانب سے شہیدہونے والے دو نوجوانوں شہزاد رضا اور علی رضا کے قاتلوں کی عدم گرفتاری کے خلاف جعفریہ الائنس پاکستان کے زیر اہتمام بعد نماز جمعہ سندھ بھر میں،حیدر آباد،سکھر،لاڑکانہ،سیہون، دادو سمیت کئی مقامات پر احتجاجی مظاہرے کئے گئے جبکہ مرکزی مظاہرہ خوجہ مسجد کھارادر کراچی میں منعقد ہوا۔
مظاہرے میں سینکڑوں شیعیان حیدر کرار نے شرکت کی جبکہ انھوں نے ٹارگٹ کلنگ کے خلاف نعروں پر مبنی بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔
خوجہ مسجد کھارادر میں احتجاجی مظاہرے سے جعفریہ الائنس پاکستان کے سربراہ سینیٹر علامہ عباس کمیلی، دیگر راہنماؤں نے خطاب کیا۔
سینیٹر علامہ عباس کمیلی نے کہا کہ ملک بھر میں کالعدم دہشت گرد ٹولوں کے دہشت گرد کھلم کھلا ملت جعفریہ کی نسل کشی میں مصروف عمل اور پنجابی طالبان دہشت گرد کراچی میں اپنے غیر ملکی آقاؤں کی ایماء پر ملت جعفریہ کو اپنے مذموم مقاصد کا نشانہ بنا رہے ہیں جبکہ حکومت کی خاموشی اس بات کی دلیل ہے کہ حکومت پاکستان ملت جعفریہ کی نسل کشی کے منصوبوں میں کالعدم دہشت گرد ٹولوں کی سر پرستی کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ گذشتہ روز شہر میں کالعدم دہشت گرد ٹولے کی جانب سے نکالی جانے والی ریلی اور پھر اس کے بعد شیعہ آبادیوں پر اندھا دھند فائرنگ کے دل سوز واقعات نے یہ ثابت کر دیاہے کہ حکومت سندھ بالخصوص گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد اور وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کالعدم دہشتگردوں کی سر پرستی کررہے ہیں جبکہ ملت جعفریہ کی مسلسل ٹارگٹ کلنگ کی جا رہی ہے اور تاحال ایک بھی دہشت گرد گرفتار نہیں کیا گیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر حکومت نے یہی روش اختیار رکھی اور کالعدم دہشت گرد ٹولوں کو لگام نہ دی تو ملت جعفریہ اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتی ہے ۔
رہنماؤں کاکہنا تھا کہ ملت جعفریہ نے مملکت خداد پاکستان کو بنانے کے لئے بھی بے مثال قربانیاں پیش کی تھیں اور مملکت کو بچانے کے لئے بھی روز اول سے اب تک اپنے خون کا نذرانہ دیتے آئے ہیں ان کا کہنا تھا کہ ہم شہادت سے نہیں ڈرتے ،شہادت ہمارے لئے سعادت ہے اور غیر ملکی آقاؤں کے اشاروں پر چلنے والے حکمران اور ان کے چیلے بھی یہ بات جان لیں کہ ملت جعفریہ مملکت خداداد پاکستان کی حفاظت کے لئے ہر ممکنہ اقدام سے گریز نہیں کرے گی اور یہ بات ہر صورت برداشت نہیں کی جائے گی کہ غیر ملکی آقاؤں کی ایماء پر کام کرنے والے ایجنٹ پاکستان کی سر زمین کو یر غمال بنا کر رکھیں اور ملت جعفریہ کی نسل کشی کریں۔
انہوںنے کہا کہ ملت جعفریہ کے صبر کا پیمانہ اب لبریز ہو چکا ہے اور حکومت ہوش کے ناخن لے ورنہ سنگین نتائج بر آمد ہوں گے۔
اس موقع پر مظاہرین نے عالمی دہشت گرد امریکہ اور اس کے پاکستان میں موجود حواریوں کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور حکومت سندھ کی نااہلی سمیت شیعہ سنی اتحاد اور دہشت گردی نامنظور کے نعرے بھی لگائے گئے،جبکہ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ ملت جعفریہ کی نسل کشی میں ملوث وزیر اعلیٰ سندھ اور گورنر سندھ کو فوری طور پر برطرف کیا جائے اور کالعدم دہشتگرد ٹولوں کے خلاف فوجی آپریشن کیا جائے اور شہر کراچی کو طالبان دہشت گردوں سے پاک صاف کیا جائے۔
دوسری جانب کالعدم دہشت گرد ٹولے سپاہ صحابہ کے ناصبی دہشت گردوں کے حملے کے نتیجہ میں شہیدہونے والے شیعہ نوجوان علی رضا کی نماز جنازہ میں شاہراہ پاکستان پر ادا کی گئی جس میں ہزاروں شیعیان حیدر کرار نے شرکت کی۔
اس موقع پر شیعہ علماء کونسل کے مرکزی رہنما مولانا ناظر عباس تقوی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت نے ملت جعفریہ کے شہید ہونے والے جوانوں کے قاتلوں کو فی الفور گرفتار نہ کیا تو ملت جعفریہ سراپا احتجاج بن جائے گی اور وزیر اعلیٰ ہاؤس سمیت گورنر ہاؤس کا گھراؤ کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ ملت جعفریہ کی کراچی میں ہونے والی مسلسل ٹارگٹ کلنگ کے خلاف مجلس وحدت مسلمین پاکستان اور آئی ایس او کی جانب سے ملیر میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے اور حکومت سے مطالبہ کیا گیاکہ کالعدم دہشت گرد ٹولوں کے ناصبی دہشت گردوں کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے۔
حیدر آباد میں بھی کراچی میں ملت جعفریہ کی ٹارگٹ کلنگ کے خلاف شدید احتجاج کیا گیا اور احتجاجی مظاہرے کئے گئے جبکہ مرکزی مظاہری قدم گاہ مولا علی (ع)پر کیا گیا،احتجای مظاہرےکا اہتمام جعفریہ الائنس پاکستان کی جانب سے کیا گیا تھا ،احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے جعفریہ الائنس پاکستان حیدرآباد کے صدر راشد رضوی نے خطاب کیا جبکہ مظاہرین نے کراچی میں جاری ملت جعفریہ کی ٹارگٹ کلنگ میںملوث افراد کے خلاف کاروائی کا مظالبہ کیا۔
کراچی شہر میں کالعدم دہشت گرد ٹولوں سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے ناصبی دہشت گردوں نے گذشتہ ایک ہفتے کے دوران 8 سے زائد شیعہ افراد کو شہید کر دیا ہے۔
ملت جعفریہ کی نگاہیں حکومت سندھ کی طرف سوالیہ نشان بنی ہوئی ہیں مگر حکومت سندھ کی نا اہلی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ کالعدم دہشت گرد ٹولے کے خلاف کاروائی عمل میں لانے سے قاصر ہے۔
ملک بھر کی شیعہ ٹولوں نے کراچی میں ہونے والی مسلسل ٹارگٹ کلنگ کے خلاف شدید غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کالعدم دہشت گرد ٹولوں سپاہ صحابہ، لشکر جھنگوی کے ناصبی دہشت گردوں کی سرپرستی کر رہی ہے اور ملت جعفریہ کو تر نوالے کی طرح استعمال کیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ شیعیان پاکستان نے مورخہ 12جون کو نصیر الحسن کی شہادت پر شدید غم و غصہ کا اظہار کیا اور اس سے قبل تمام شہید ہونے والے شیعہ افراد کے قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔
حکومت کا رد عمل
وزير داخلہ بھی آخر کار بول اٹھے اور دہشت گردوں کی سرپرستی کا الزام حکومت کے سر سے اتارنے کے لئے کہا کہ “کراچی ٹارگٹ کلنگ میں کالعدم ٹولہ ملوث ہے”۔
انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ جو ٹولہ کالعدم ڈیکلئیر ہوتا ہے اس کو ریلی کی اجازت دینے کا مطلب دہشت گردی کی سرپرستی نہیں تو کیا ہے؟
وزیر داخلہ سندھ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے کہاہے کہ فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ کی روک تھام کیلئے حال ہی میں جیل سے رہاہونے والوں کی فہرستیں تیارکی جارہی ہیں۔ مگر انھوں نے یہ نہیں کہا کہ دہشت گردوں کو سزا دینے کی بجائے انہیں رہا کرنے کا مطلب ان کی سرپرستی نہیں تو کیا ہے؟
کراچی میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ذوالفقار مرزا کا کہنا تھاکہ بڑے  بڑے مجرموں اور اسلام کے نام پر دہشت گردی کرنے والوں کوگرفتارکیاگیا تھا تا ہم عدالتیں ان کو ضمانت پر رہا کررہی ہیں. حکومت کو اس ضمن میں مشکلات کا سامنا ہے.
تاہم انھوں نے اس بات کی طرف اشارہ نہیں کیا کہ کیا ان کی بات کا مطلب یہ ہے کہ حکومت نہیں بلکہ عدلیہ ہی دہشت گردوں کی سرپرستی کررہی ہے!!
انہوں نے کہا کہ ضمانت پر رہا ہونے والوں کا ٹریک ریکارڈ تیار کیا جا رہا ہے.
وزیر داخلہ سندھ کا کہنا تھا کہ ایک کالعدم ٹولے نے ان سے شہر میں جلسے کی اجازت مانگی تھی، ان کو اجازت نہیں دی تو انہوں نے ذاتی طور پر مجھے فون کر کے دھمکیاں دیں، ان پر واضح کرنا چاہتا ہوں کہ میں کھل کر کھیلنے کا عادی ہوں، کسی کالعدم ٹولے کو شہر کا امن تباہ کرنے کی اجازت نہیں دوں گا۔
انھوں نے یہ پھر بھی نہیں بتایا کہ کالعدم ٹولے کو یہ جرأت کیونکر حاصل ہے کہ وہ کالعدم ہوتے ہوئے ریلیوں کی اجازت مانگتا ہے اور اجازت نہ ملنے پر دھمکیاں بھی دیتا ہے؟ چوری اور سینہ زوری؟ ایسا کیوں ہے؟
ملک میں حاکم کون ہے اور محکوم کون ہے؟
واضح رہے کہ 18 اپریل کو شیعیان کراچی نے سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے گٹھ جوڑ کے نتیجے میں ایک نئے ٹولے کی تشکیل کے بارے میں خبردار کیا تھا اور انھوں نے کہا تھا کہ یہ ٹولہ تمام دہشت گردوں کے اتحاد سے اہل تشیع کو زیادہ سے زیادہ تنگ کرنے اور انہیں مسلسل ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنانے کی غرض سے معرض وجود میں آیا ہے۔



Links
 Free Websites By All4Webs